ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / راہل گاندھی کی جیکٹ :سبرامنیم سوامی نے کہا،نیشنل ہیرالڈ کے پیسے ہیں ، وزراء کوہندوستانی ثقافت کے کپڑے پہننے چاہئیں

راہل گاندھی کی جیکٹ :سبرامنیم سوامی نے کہا،نیشنل ہیرالڈ کے پیسے ہیں ، وزراء کوہندوستانی ثقافت کے کپڑے پہننے چاہئیں

Thu, 01 Feb 2018 11:42:01    S.O. News Service

نئی دہلی، 31؍ جنوری(ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا) کانگریس کے صدر راہل گاندھی کے میگھالیہ میں میوزک کنسرٹ کے دوران تقریبا 63 ہزار روپے کی جیکٹ پہننے کولے کرسیاست تیزہوگئی ہے۔ بی جے پی کے لیڈر سبرامنیم سوامی نے راہل پرطنز کساہے ۔ انہوں نے کہا کہ سب جانتے ہیں کہ راہل گاندھی کے مہنگی کپڑے کہاں سے آتے ہیں۔ ان کے غیر ملکی بینکوں میں اربوں روپے ہیں، غیر ملکی بینکوں میں کتنا پیسہ جمع ہے اس بارے میں جلدہی سب کے سامنے آئے گی۔انہوں نے کہا کہ یہ جو کپڑے پہن رہے ہیں، نیشنل ہیرالڈ کیس کاپیسہ ہے، راہل گاندھی کوکیا پتہ ہے کہ سوٹ بوٹ کی سرکارکیاہوتی ہے؟ ،مودی نے ایک بارکسی بھکت کادیاسوٹ پہن لیاتھا، لیکن اس کے بعد کبھی بھی انہوں نے اس طرح کے کپڑے نہیں پہنے۔ انہوں نے کہا کہ میں یقینی طور پر یہ کہوں گا کہ وزیروں کو سوٹ بوٹ نہیں پہننا چاہیے، انہیں ہندوستانی ثقافت کے کپڑے پہنے چاہئیں۔وہیں بی جے پی لیڈرونے کٹیار نے کہا کہ راہل گاندھی بتائیں کہ اتنی مہنگی جیکٹ کہاں سے آئی، اتنے مہنگے کپڑوں کاحساب وہ اپنے انکم ٹیکس میں بتاتے ہیں کہ نہیں۔مرکزی وزیر مختار عباس نقوی نے کہا کہ راہل گاندھی نے ہمیں نشانہ بنایا تھا لیکن ہم ایسا نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ راہل گاندھی کون سی جیکٹ پہنتے ہیں،کون ساپیکٹ رکھتے ہیں، ان کویہ دیکھنا چاہئے کہ ملک کیا چاہتا ہے،اس کوسمجھوتوزیادہ بہترہے۔آپ کو بتادیں کہ راہل گاندھی ان دنوں میگھالیہ کے دورے پر ہیں۔ راہل نے یہاں اپنی انتخابی مہم منگل کو شروع کی۔وہیں منگل کو شام میں راہل یہاں ایک موسیقی کنسرٹ امن جشن میں حصہ لیا اور گانا بھی گایا۔ راہل نے اس پروگرام میں ایک جیکٹ پہنی تھی۔ اس پر میگھالیہ بی جے پی کا دعوی ہے کہ راہل نے اس پروگرام میں جو جیکٹ پہنی ہے، 63 ہزار روپے کی ہے۔راہل کی ایک تصویر اور اس جیکٹ نے میگھالیہ بی جے پی کے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے پوسٹ کیا ہے، جیکٹ کی قیمت بھی پوسٹ میں دکھائی گئی ہے۔ اس پوسٹ میں یہ لکھا گیا ہے کہ راہل کے سوٹ بوٹ کی میگھالیہ حکومت بدعنوانی کی عادی ہے، ہم سے جواب طلب کرنے کے بجائے، ہمیں اپنا رپورٹ کارڈ کانگریس حکومت کو دینا چاہئے۔


Share: